1
سکُونت گا خیمہ شہر بے بیاں
جَلالی سفر سُوئے منزِل رواں
وعدہ خُدا کا ہے جَلالی جنم
نہ بھائی اُسے اَرضی جاہ و حشم
جَلالی سفر سُوئے منزِل رواں
وعدہ خُدا کا ہے جَلالی جنم
نہ بھائی اُسے اَرضی جاہ و حشم
شہر! اَوہ پاک شہر!
اِنسان کے سنگ بنا خُدا تیرا گھر
اِنسان کے سنگ بنا خُدا تیرا گھر
2
بنائے خُدا اَوہ شہر بے بیاں
اَرضی محل کی ہے نہ خواہِش یہاں
خُدا نے بنایا جو شاہی مکاں
راہ تکتا مُسافِر کی منزِل جہاں
اَرضی محل کی ہے نہ خواہِش یہاں
خُدا نے بنایا جو شاہی مکاں
راہ تکتا مُسافِر کی منزِل جہاں
3
دُکھ سے ہے دیکھتا وہ شہر بے بیاں
نہ شان ہے جَلالی بدن ناتواں
تَصَوُّر میں نوحہ ثنا میں ڈھلا
راہ ہے پُر خطر نہیں لا اِنتہا
نہ شان ہے جَلالی بدن ناتواں
تَصَوُّر میں نوحہ ثنا میں ڈھلا
راہ ہے پُر خطر نہیں لا اِنتہا
4
خُداوند ہے منزِل شہر بے بیاں
رَوشن شہر جو کہ تیّار ہے وہاں
وہ بخرہ ہمارا مسیح سنگ سفر
وہ خیمہ وہ سایہ ہمارا شجر
رَوشن شہر جو کہ تیّار ہے وہاں
وہ بخرہ ہمارا مسیح سنگ سفر
وہ خیمہ وہ سایہ ہمارا شجر