1
تَباہی سے نِکال
مَرتے کو سنبھال
تَرس کھا کے مَوت اَور لحد سے چھین لا
گُناہ گاروں پہ رو
تھام لے گرتوں کو
بتا اِن کو یِسُوع ہے بچاتا
مَرتے کو سنبھال
تَرس کھا کے مَوت اَور لحد سے چھین لا
گُناہ گاروں پہ رو
تھام لے گرتوں کو
بتا اِن کو یِسُوع ہے بچاتا
تَباہی سے نِکال
مَرتے کو سنبھال
یِسُوع ہی ہے رحیم
وہ بچاتا
مَرتے کو سنبھال
یِسُوع ہی ہے رحیم
وہ بچاتا
2
کتنے ہَوں ہم غَافل
پھر بھی تَکتَا رَاہ
ہَے منتَظِر تَائب بیٹے کا وہ
شَافعی وہ سَچَا
شَافعی دھیما
کرتا بخشش گر لائیں اِیمان وہ
پھر بھی تَکتَا رَاہ
ہَے منتَظِر تَائب بیٹے کا وہ
شَافعی وہ سَچَا
شَافعی دھیما
کرتا بخشش گر لائیں اِیمان وہ
3
دُنیا کی حَقارَت
بے جا ہَو ذِلّت
زخمی جذبے کرتا بحال فَضل
چُھوتا ہے پیار سے وہ
خُود ہے جگاتا
ٹُوٹے تاروں میں ہَوتی ہے پھِر
بے جا ہَو ذِلّت
زخمی جذبے کرتا بحال فَضل
چُھوتا ہے پیار سے وہ
خُود ہے جگاتا
ٹُوٹے تاروں میں ہَوتی ہے پھِر
4
تَباہی سے نِکال
فرض کا تَقَاضَا
طَاقَت کرے گا یِسُوع ہی عَطا
واپس تنگ رَاستے پر
تم جیتو اُن کو
بتا دَے سب کو وہ قُربان ہُوا
فرض کا تَقَاضَا
طَاقَت کرے گا یِسُوع ہی عَطا
واپس تنگ رَاستے پر
تم جیتو اُن کو
بتا دَے سب کو وہ قُربان ہُوا