1
مُنّجی نے دی رِہائی
مسیح نے آزاد کیا
گُناہ کا زور اَب ہے ٹُوٹا
سب ڈنک مَوت کا نہ رہا
مسیح نے آزاد کیا
گُناہ کا زور اَب ہے ٹُوٹا
سب ڈنک مَوت کا نہ رہا
یِسُوع نے فاتح بنایا
اَپنی فتح کے زور سے
اُس کے جی اُٹھنے کی قُدرَت
تَوانا کرتی رُوح سے
اَپنی فتح کے زور سے
اُس کے جی اُٹھنے کی قُدرَت
تَوانا کرتی رُوح سے
2
شریعت سے کیا آزاد
مُردہ تھا ہمیشہ سے
پَابند نہیں شَریعَت کا
زِندہ اُس کے فَضل سے
مُردہ تھا ہمیشہ سے
پَابند نہیں شَریعَت کا
زِندہ اُس کے فَضل سے
3
گُناہ صلیب پہ ہے مَذ مُوم
زور جاتا رہا اُس کا
مُجھ میں رہی نہ جَڑ اُس کی
اَثر رہا نہ اُس کا
زور جاتا رہا اُس کا
مُجھ میں رہی نہ جَڑ اُس کی
اَثر رہا نہ اُس کا
4
مَوت کو مسیح نے ہے کُچلا
بَرملاوہ بے داغ تھا
موت کے بند اُس نے توڑ دیئے
پھر سے ہے وہ جی اُٹھا
بَرملاوہ بے داغ تھا
موت کے بند اُس نے توڑ دیئے
پھر سے ہے وہ جی اُٹھا
5
اِبلیس کا خاتمہ ہَو گیا
دُنیا کا شَیاطین کا
ساری تاریکی مِٹ گئی
راج ہے زِندگی اَور نُور کا
دُنیا کا شَیاطین کا
ساری تاریکی مِٹ گئی
راج ہے زِندگی اَور نُور کا
6
دیتا وہ فَضل کَثرَت سے
مُجھ کو ڈھانپتا قُدرَت سے
دیتا کمزوری میں جَلَال
مضبُوط کر تا طَاقَت سے
مُجھ کو ڈھانپتا قُدرَت سے
دیتا کمزوری میں جَلَال
مضبُوط کر تا طَاقَت سے