1
اے باپ خدا جب میں حیرت سے دیکھتا یہ کائنات ارض وسماکمال
ڈرے پہاڑ آتے نہ جو شمار میں ظاہر کرتے ہر سو تیرا جلال
ڈرے پہاڑ آتے نہ جو شمار میں ظاہر کرتے ہر سو تیرا جلال
تن من میرا گاتا تیری ثناکمال ہے تو عظیم ہے تو
تاابد میں گاتا تیری ثناکمال ہے تو عظیم ہے تو
تاابد میں گاتا تیری ثناکمال ہے تو عظیم ہے تو
2
ہو تا مسرور تیری نجات کے فیض سے سوچتا تونے بھیجا بیٹا اپنا
جس نے دی جان کہ ہوں نئے انسان ہم جیون پیکر تیری معموری کا
جس نے دی جان کہ ہوں نئے انسان ہم جیون پیکر تیری معموری کا
3
تیرے گھر میں پر فضل پاک شراکت پاتے ہیں لاکھوں تیری پاک حیات
مسکن تیرا اپنتے ہیں ظاہر ہوویں تیری معموری کی سب پاک صفات
مسکن تیرا اپنتے ہیں ظاہر ہوویں تیری معموری کی سب پاک صفات
4
معموری کے اس دور میں تو آئے گاتب ہو گا ایک نیا ایک دشمن
نئی زمین اورنئے آسمان سب میں تیرا جلال ظاہر ہو گا دائم
نئی زمین اورنئے آسمان سب میں تیرا جلال ظاہر ہو گا دائم