1
خُدا بُلاتا ہے تُو
دھیان ہے بیٹے میں
جس میں تیری خُوشنُودی
مرضی پُوری جس میں
اُس اعلیٰ خزانہ سے
کَثرت سے تُو دیتا
تیرا خالِص پیار ہمیں
رِہائی ہے بخشا
دھیان ہے بیٹے میں
جس میں تیری خُوشنُودی
مرضی پُوری جس میں
اُس اعلیٰ خزانہ سے
کَثرت سے تُو دیتا
تیرا خالِص پیار ہمیں
رِہائی ہے بخشا
2
اَے باپ رحیم خدا تُو
مَعرِفت اَب بیٹے کی
فَضل پاتے ہیں تیرا
تیری اَبدی زِندگی
جو ہر دَم رَس گھولتا ہے
اُنتھک کان میں تیرے
سدا خَوف سے گُناہ سے
جان کو رِہائی دے
مَعرِفت اَب بیٹے کی
فَضل پاتے ہیں تیرا
تیری اَبدی زِندگی
جو ہر دَم رَس گھولتا ہے
اُنتھک کان میں تیرے
سدا خَوف سے گُناہ سے
جان کو رِہائی دے
3
ڈَرے سے کانپتا گُناہ گار
کہ تُو نہ بُھولے گا
لیکن فِدیہ ہے دے کر
سب قرض چُکا دیا
تھی رِہائی ناممکِن
جانوں کی آزادی
تیرے مَحبُوب کی مَوت نے
کیا بالکُل بَری
کہ تُو نہ بُھولے گا
لیکن فِدیہ ہے دے کر
سب قرض چُکا دیا
تھی رِہائی ناممکِن
جانوں کی آزادی
تیرے مَحبُوب کی مَوت نے
کیا بالکُل بَری
4
دِل میں نہ غُصّہ رکھتا
اِیماندار کے لئے
ہوتے نہ خَوف زدہ ہم
جب اُس کا پیار لے
بیٹے جب لوٹ آئیں تو
چُو متا لباس دیتا
کامِل مُحبّت سے تُو
سب خَوف مِٹا دیتا
اِیماندار کے لئے
ہوتے نہ خَوف زدہ ہم
جب اُس کا پیار لے
بیٹے جب لوٹ آئیں تو
چُو متا لباس دیتا
کامِل مُحبّت سے تُو
سب خَوف مِٹا دیتا