1
تیرا خیال ہے پُر کشش
دِل کو لُبھاتا ہے
کر تاثیر اَر اِس دُنیا سے
چُھٹکارا دیتا ہے
دِل کو لُبھاتا ہے
کر تاثیر اَر اِس دُنیا سے
چُھٹکارا دیتا ہے
2
کافی نہیں جان بچانا
اَبدی آگ سے بچنا
دِل زِندہ کرتی سوچ اُس کی
خواہش کو دو بالا
اَبدی آگ سے بچنا
دِل زِندہ کرتی سوچ اُس کی
خواہش کو دو بالا
3
خُدا واحد مسکن اَپنا
رَاستہ ناہموار ہَو
بِنا خُدا نہ تَسلّی
میرے بے چَین دِل کو
رَاستہ ناہموار ہَو
بِنا خُدا نہ تَسلّی
میرے بے چَین دِل کو
4
پُکارو بس خُدا کا نام
گہرائی سے دِل کی
پھر دیکھو کیسے دُنیا سے
آزمائش بھاگے گی
گہرائی سے دِل کی
پھر دیکھو کیسے دُنیا سے
آزمائش بھاگے گی
5
طالِب آنکھ اَور مُضطر دِل کی
آسان تک رَسَائی
گر اِیمان سے ہیں کوہ ٹلتے
پِیار میں طاقت کتنی
آسان تک رَسَائی
گر اِیمان سے ہیں کوہ ٹلتے
پِیار میں طاقت کتنی
6
اَے جان کِتنا تھوڑا رَاستہ
تُو نے کِیا ہے طے
ڈال دے خُدا پہ کر حوصلہ
لے جائے گا آگے
تُو نے کِیا ہے طے
ڈال دے خُدا پہ کر حوصلہ
لے جائے گا آگے
7
مِلے گُناہ سے رِہائی
فرض ہے مسیحی کا
ہیں بے معنی یہ بَرکتیں
جس دِل میں پِیار تیرا
فرض ہے مسیحی کا
ہیں بے معنی یہ بَرکتیں
جس دِل میں پِیار تیرا
8
مُشکِل ہے جِسم کو کامِل رَاہ
مُشکِل نہیں پِیار کو
گر ہے خُدا کی طَلَب تو
پاؤ گے منزِل کو
مُشکِل نہیں پِیار کو
گر ہے خُدا کی طَلَب تو
پاؤ گے منزِل کو
9
جاگتا رہے ضمیر اَپنا
دِل بھی ہَو خاطِر میں
فَضل کے سائے میں چَلو
کامِلیت ہے اِس میں
دِل بھی ہَو خاطِر میں
فَضل کے سائے میں چَلو
کامِلیت ہے اِس میں