1
مَیں کیسے ہار سکتا ہُوں
صلیب ہے جب سامنے
جہاں ہارا شیطان
دُشمن ہلاک ہُوئے
آ خُداوند رویا دے
جنگ کو تیّار تُو کر
مُجھ کو تُو غالب بنا
رُوح سے ملبُوس تُو کر
صلیب ہے جب سامنے
جہاں ہارا شیطان
دُشمن ہلاک ہُوئے
آ خُداوند رویا دے
جنگ کو تیّار تُو کر
مُجھ کو تُو غالب بنا
رُوح سے ملبُوس تُو کر
فتح مند فتح مند
گُلوَری کے باعث
مُجھ کو تُو غالب بنا
فاتح اِک فاتح خُداوند میں
گُلوَری کے باعث
مُجھ کو تُو غالب بنا
فاتح اِک فاتح خُداوند میں
2
مَیں کیسے ہار سکتا ہُوں
مسیح فاتح بادشاہ
بُلایا ہَے اُس جنگ میں
جو اُس نے کی فتح
خُداوند تُو دے حَوصلہ
کر فاتح رُوح عَطا
مُجھ کو تُو غالب بنا
مَسکن بَنُوں تیرا
مسیح فاتح بادشاہ
بُلایا ہَے اُس جنگ میں
جو اُس نے کی فتح
خُداوند تُو دے حَوصلہ
کر فاتح رُوح عَطا
مُجھ کو تُو غالب بنا
مَسکن بَنُوں تیرا
3
مَیں کیسے ہار سکتا ہُوں
یِسُوع ہَے رَہنُما
بدی کا رَاستَہ چھوڑ تا
اُس کے تخت پہ بیٹھتا
دے اَپنے سپاہی کو
زور شمشیر زَنی کا
مُجھ کو تُو غالب بنا
پاک کلام کے ذریعہ
یِسُوع ہَے رَہنُما
بدی کا رَاستَہ چھوڑ تا
اُس کے تخت پہ بیٹھتا
دے اَپنے سپاہی کو
زور شمشیر زَنی کا
مُجھ کو تُو غالب بنا
پاک کلام کے ذریعہ
4
مَیں کیسے ہار سکتا ہُوں
ڈُوبنے تک سُورج کے
یِسُوع سَر گوشی کرتا
شاباش میرے پیارے
مسیح آ تُو جلال میں
رُوح مُجھ پہ نَازِل ہَو
مُجھ کو تُو غالب بنا
فاتح ہمیشَہ کو
ڈُوبنے تک سُورج کے
یِسُوع سَر گوشی کرتا
شاباش میرے پیارے
مسیح آ تُو جلال میں
رُوح مُجھ پہ نَازِل ہَو
مُجھ کو تُو غالب بنا
فاتح ہمیشَہ کو