1
آیا پاس چَشمَہَ حَیات کے
آسمان سے جو چَشمہ بہتا
گزرا مصیبت کے سیلاَب سے
مَیں پیَار کی ایلیم میں پہنچا
آسمانی کنویں سے مَیں پیتا
جو پھوٹا ذات کی اَتھاہ سے
کوئی فانِی ہے نہ جان سکتا
خُوشی مِلتی جو یسوع سے
آسمان سے جو چَشمہ بہتا
گزرا مصیبت کے سیلاَب سے
مَیں پیَار کی ایلیم میں پہنچا
آسمانی کنویں سے مَیں پیتا
جو پھوٹا ذات کی اَتھاہ سے
کوئی فانِی ہے نہ جان سکتا
خُوشی مِلتی جو یسوع سے
آؤ پاس زِندگی کے چَشمہ کے
ہر گز جو نہیں ہے سُوکھتا
پِیُو تُم اَب اُس وافر پانی سے
مسیح زِندگی کا ہے چَشمہ
ہر گز جو نہیں ہے سُوکھتا
پِیُو تُم اَب اُس وافر پانی سے
مسیح زِندگی کا ہے چَشمہ
2
آیا پاس خون کے چَشمہ کے
بہتا جُرم داغوں کے لِئے
دھارے پاک میں دھو لِئے مَیں نے
سفید ہیں مانِند برف کپڑے
نہیں ہے یہ رَاستبازی میری
جاں میں میری رہتا مسیح
شامِل اِس میں فِطرَت اِلٰہی
ہَوتی فِطرَت کَامِل میری
بہتا جُرم داغوں کے لِئے
دھارے پاک میں دھو لِئے مَیں نے
سفید ہیں مانِند برف کپڑے
نہیں ہے یہ رَاستبازی میری
جاں میں میری رہتا مسیح
شامِل اِس میں فِطرَت اِلٰہی
ہَوتی فِطرَت کَامِل میری
3
آیا پاس شِفَا کے چَشمہ کے
فراہمی بے حد کثرت سے
یہ راز آدم حِکمت دَولت سے
جان پائے نہ خرید پائے
راز کھولا ہے یہ خُداوند نے
پَسلی سے بہتے چَشمہ میں
شِفَا ہے اُس کے مار کھانے میں
جب آ رہتا ہے مسکن میں
فراہمی بے حد کثرت سے
یہ راز آدم حِکمت دَولت سے
جان پائے نہ خرید پائے
راز کھولا ہے یہ خُداوند نے
پَسلی سے بہتے چَشمہ میں
شِفَا ہے اُس کے مار کھانے میں
جب آ رہتا ہے مسکن میں
4
آیا پاس خُوشی کے چَشمہ کے
خُوشی ہے یہ طاقَت دِل کی
ہے خَالِص ترین یہ شَادمانی
نہ ہو جُدا روشنی کبھی
پھل دار شَجر ہے مُرجھا جاتا
فَانِی ہے عِشرَت اِنسانی
پر چَشمہ میرا نہ سُوکھ سکتا
حِصّہ ہے اِلٰہی خُوشی
خُوشی ہے یہ طاقَت دِل کی
ہے خَالِص ترین یہ شَادمانی
نہ ہو جُدا روشنی کبھی
پھل دار شَجر ہے مُرجھا جاتا
فَانِی ہے عِشرَت اِنسانی
پر چَشمہ میرا نہ سُوکھ سکتا
حِصّہ ہے اِلٰہی خُوشی