1
کیُوں نہ کرے فانی زبان
آزاد جاں کا بیان
خُدا کی جو ہَوجاتی ہے
دُنیاوی چھوڑ سامان
سب کُچھ اُس کا ہے مَوت حَیات
حال کا آئندہ کا
مسیح جیون اَور اِطمِینان
مسیح اَپنا مکان
آزاد جاں کا بیان
خُدا کی جو ہَوجاتی ہے
دُنیاوی چھوڑ سامان
سب کُچھ اُس کا ہے مَوت حَیات
حال کا آئندہ کا
مسیح جیون اَور اِطمِینان
مسیح اَپنا مکان
2
ہم جیسے ہیں شاہ چُنتا ہے
شامِل ہَوں تخت میں ہم
حَیرت ہے ہم ٹھکراتے ہیں
وہ واحد جو حاکم
مت کہو کہ اِیثار ہے یہ
بلکہ حَق ہے مِلا
ہر قیمت پر ہم اُس کے ہَوں
لَشکَر کلوَری کا
شامِل ہَوں تخت میں ہم
حَیرت ہے ہم ٹھکراتے ہیں
وہ واحد جو حاکم
مت کہو کہ اِیثار ہے یہ
بلکہ حَق ہے مِلا
ہر قیمت پر ہم اُس کے ہَوں
لَشکَر کلوَری کا
3
اُٹھو جُزو پہ مِلے گا کُل
سودا طے پا گیا
ہر اِک شَے اَور ہر اِک اِنسان
خادِم ہَوجائے گا
آپ اُس کے ہیں سب آپ کا ہے
ہاں اَیک ہیں آپ اَور وہ
اُس میں ہے لا محدود حَیات
گر خَوف اَور شک نہ ہَو
سودا طے پا گیا
ہر اِک شَے اَور ہر اِک اِنسان
خادِم ہَوجائے گا
آپ اُس کے ہیں سب آپ کا ہے
ہاں اَیک ہیں آپ اَور وہ
اُس میں ہے لا محدود حَیات
گر خَوف اَور شک نہ ہَو