1
جب سے تُو گیا ہے کوہِ زیتُون سے
آمد میں ہے اَب کیُوں تاخیر تیری
برسوں سے تیری آمد کے مُنتظِر
دُعائیں سُنتا نہیں ہماری
آمد میں ہے اَب کیُوں تاخیر تیری
برسوں سے تیری آمد کے مُنتظِر
دُعائیں سُنتا نہیں ہماری
تُو اَب آ
تیرے آنے کی آرزُو
دِل سے چاہتے ہیں تُو واپس آجائے
اَے کاش جلد آجائے تُو
تیرے آنے کی آرزُو
دِل سے چاہتے ہیں تُو واپس آجائے
اَے کاش جلد آجائے تُو
2
خُداوند جب سے تُو آسمان پہ گیا
ہر شَے ہے یہاں بے رس بے مزہ
ہم اکثر دُعامیں اَور جاگتے ہُوئے
ہر کَروٹ بَھرتے تیرے لِئے آہ
ہر شَے ہے یہاں بے رس بے مزہ
ہم اکثر دُعامیں اَور جاگتے ہُوئے
ہر کَروٹ بَھرتے تیرے لِئے آہ
3
مَناظِر حسین ہیں کب مِلے گا تُو
دِلکش بہت ہیں یہ پھول اَور پِرند
ہیں خُوش نُما سب پر دِل ہے بے قرار
مَیں ہُوں حسیں چِہرے کا آرزُومند
دِلکش بہت ہیں یہ پھول اَور پِرند
ہیں خُوش نُما سب پر دِل ہے بے قرار
مَیں ہُوں حسیں چِہرے کا آرزُومند
4
کرتے ہیں بے صبری سے ہم اِنتظار
جانتے نہیں کہ اَب دیر ہے کتنی
ہر اِک روز سُورج کے طُلُوع تا غروب
ہر دم تَوقع تیرے جَلوے کی
جانتے نہیں کہ اَب دیر ہے کتنی
ہر اِک روز سُورج کے طُلُوع تا غروب
ہر دم تَوقع تیرے جَلوے کی
5
جہاں بھی ہَو بارِش یا آندھی طُوفان
جہاں بھی ہَوتا ہے مَد و جَذر
ہَوتے ہیں پُر اُمِید کہ تُو آگیا
ہَوتے مایُوس جب نہ آتا نظر
جہاں بھی ہَوتا ہے مَد و جَذر
ہَوتے ہیں پُر اُمِید کہ تُو آگیا
ہَوتے مایُوس جب نہ آتا نظر
6
تُونے یہ وعدہ گر نہ کیا ہَوتا
بے دِل ہَوتے خِدمَت سے کَتراتے
چاہتا ہے تُو ہم تیرے ہَوں مُنتظِر
جِئیں اَور کام کریں تیرے لِئے
بے دِل ہَوتے خِدمَت سے کَتراتے
چاہتا ہے تُو ہم تیرے ہَوں مُنتظِر
جِئیں اَور کام کریں تیرے لِئے
7
یاد کر ہمارے طویل اِنتظار کو
جانے سے پہلے جو وعدہ کیا
اُمِید کرتے ہیں کرتے ہی رہیں گے
کہ تُو آئے گا پر آج نہ آسکتا
جانے سے پہلے جو وعدہ کیا
اُمِید کرتے ہیں کرتے ہی رہیں گے
کہ تُو آئے گا پر آج نہ آسکتا