1
جکڑا تھا گُناہ کی بیڑیوں میں
ٹُوٹی نہ زنجیر غُلامی کی
ملی مُجھے جَلَالی آزادی
یِسُوع نے توڑی ہر اِک بیڑی
ٹُوٹی نہ زنجیر غُلامی کی
ملی مُجھے جَلَالی آزادی
یِسُوع نے توڑی ہر اِک بیڑی
عظیم آزادی عجیب آزادی
گُناہ کا بندھن اب نہ رہا
یِسُوع جَلَالی نَجَات دِہندہ
یِسُوع ہمیشہ تک ہے میرا
گُناہ کا بندھن اب نہ رہا
یِسُوع جَلَالی نَجَات دِہندہ
یِسُوع ہمیشہ تک ہے میرا
2
جِسمانی کاموں سے ہے آزادی
دُشمنی نَفرت عَدَاوَت سے
بطَالت دُنیا کی خواہشوں سے
آزادی حَیات کی کُلفت سے
دُشمنی نَفرت عَدَاوَت سے
بطَالت دُنیا کی خواہشوں سے
آزادی حَیات کی کُلفت سے
3
آزادی غرُور حَماقتوں سے
پرستش اور کشش سے دَولت کی
آزادی غُصہ بدمزاجی سے
آزادی جَلَالی شَادمَانی
پرستش اور کشش سے دَولت کی
آزادی غُصہ بدمزاجی سے
آزادی جَلَالی شَادمَانی
4
آزادی فِکر اَور اذیّت سے بھی
آزادی خَوف کی کلفتوں سے
آزادی مُبَارک مُنجی میں
توڑے جس نے بندھن بیڑی کے
آزادی خَوف کی کلفتوں سے
آزادی مُبَارک مُنجی میں
توڑے جس نے بندھن بیڑی کے