1
مَیں کیسے دُور رہ سَکتا ہُوں
کیُوں رُوح کو رنجیدہ کرُوں
جب مُنتظِر ہے تُو
لَوٹ آنے کو تیّار ہُوں مَیں
رُک سکتا نہ چاہتا ہُوں مَیں
تُو میرا رہبر ہَو
کیُوں رُوح کو رنجیدہ کرُوں
جب مُنتظِر ہے تُو
لَوٹ آنے کو تیّار ہُوں مَیں
رُک سکتا نہ چاہتا ہُوں مَیں
تُو میرا رہبر ہَو
2
اَب تُجھ کو مَیں نذر کر تا
سب جو مَیں ہُوں جو ہے میرا
تا مقصَد پُورا ہَو
قَبُول کر لے رکھ لے خُدا
مَیں تو بَس ہُوں یہ ہی چاہتا
کہ بَاپ کی مَرضی ہَو
سب جو مَیں ہُوں جو ہے میرا
تا مقصَد پُورا ہَو
قَبُول کر لے رکھ لے خُدا
مَیں تو بَس ہُوں یہ ہی چاہتا
کہ بَاپ کی مَرضی ہَو
3
ماضی مِیں دُکھ اَور شرمِندگی
نہ لایا تُجھ پر یقین بھی
فَضل مُستقل تھا
کاش خُداوند مسح دے دے
اَور مُجھ میں کَثرَت سے رہے
کرُوں بیاں اُس کا
نہ لایا تُجھ پر یقین بھی
فَضل مُستقل تھا
کاش خُداوند مسح دے دے
اَور مُجھ میں کَثرَت سے رہے
کرُوں بیاں اُس کا
4
فَضل کی بخشِش کی عَطاَ
مُجھے دوست سے بڑھ کر ہُوا
شَوق سے دُلہن بنُوں
زِندگی نُقصان میں شامِل ہُوں
صلیب اُس کی قَبُول کرُوں
اُس کا مظہر بنُوں
مُجھے دوست سے بڑھ کر ہُوا
شَوق سے دُلہن بنُوں
زِندگی نُقصان میں شامِل ہُوں
صلیب اُس کی قَبُول کرُوں
اُس کا مظہر بنُوں