1
ہم کھڑے ہیں یِسُوع نام پر
ہماری وَہ فتح
نہیں ہَے بَھروسا خُود پر
بس تُجھ پر ہَے خُدا
ہتھیار نہیں ہیں جِسمانی
اَپنی رُوح کی تلوار
تیرے ہتھیاروں کو پہنے
ہم لڑنے کو تیّار
ہماری وَہ فتح
نہیں ہَے بَھروسا خُود پر
بس تُجھ پر ہَے خُدا
ہتھیار نہیں ہیں جِسمانی
اَپنی رُوح کی تلوار
تیرے ہتھیاروں کو پہنے
ہم لڑنے کو تیّار
2
دُشمن مَنصُوبے کے آگے
یک دِلی میں کھڑے
خَوفناک ہَو جنگ یا تَاریک ہَو
خُداوند میں ڈٹے
گر خَوف میں ہٹتا ہَے کوئی
بَاعثِ بدنامی
بھائیوں کے لئے شرمندگی
اَپنی بھی مَایُوسی
یک دِلی میں کھڑے
خَوفناک ہَو جنگ یا تَاریک ہَو
خُداوند میں ڈٹے
گر خَوف میں ہٹتا ہَے کوئی
بَاعثِ بدنامی
بھائیوں کے لئے شرمندگی
اَپنی بھی مَایُوسی
3
اِبلیس کے دِن اَب ہیں تھوڑے
یَہ جان کے بھڑا ہَے
دھوکے سے تاکرے کمزور
جنگ لڑنے سے پہلے
ہیں اِمتحان اَب بے شُمار
شدید اَذِیّت بھی
فَوجیں خِلاف ہیں دُشمن کی
خَوف فَناک پہلے سے بھی
یَہ جان کے بھڑا ہَے
دھوکے سے تاکرے کمزور
جنگ لڑنے سے پہلے
ہیں اِمتحان اَب بے شُمار
شدید اَذِیّت بھی
فَوجیں خِلاف ہیں دُشمن کی
خَوف فَناک پہلے سے بھی
4
کس طور سے اب لڑنا ہَو گا
اِس نَازُک لمحہ میں
کیا عیش آرام کے طَالب ہَوں
بھائیوں کو مرنے دیں
یا ڈٹ جائیں مُقابلے میں
دِلیری سے لڑیں
یاں زِندگی مَوت کا ہَے سوال
تمجید اُس کی کریں
اِس نَازُک لمحہ میں
کیا عیش آرام کے طَالب ہَوں
بھائیوں کو مرنے دیں
یا ڈٹ جائیں مُقابلے میں
دِلیری سے لڑیں
یاں زِندگی مَوت کا ہَے سوال
تمجید اُس کی کریں
5
اُس کے نام پَہ کھڑے ہَوں گے
وَہ ہی ہَے فتح مند
اُس کی خاطر دُکھ سہیں گے
جب تک جنگ ہَو نَہ بند
ہم جلد ہی فتح دیکھیں گے
وَہ پھر آئے گا جب
اُس کی خاطر دُکھ سہتے ہیں
ہم رَاج کریں گے تب
وَہ ہی ہَے فتح مند
اُس کی خاطر دُکھ سہیں گے
جب تک جنگ ہَو نَہ بند
ہم جلد ہی فتح دیکھیں گے
وَہ پھر آئے گا جب
اُس کی خاطر دُکھ سہتے ہیں
ہم رَاج کریں گے تب