1
ماضی ہے گُناہ بَھرا
بے چَین ہے ضَمیر میرا
دِل میں دُکھ بے اِنتہا
مَلامَت بَھرا ہے داغ یہ عِصیاں کا
بے چَین ہے ضَمیر میرا
دِل میں دُکھ بے اِنتہا
مَلامَت بَھرا ہے داغ یہ عِصیاں کا
مَیں ہُوں پِیار کرتا
دِل سے ہُوں لگاتا
اَپنی زِندگی اَور سب کُچھ مَیں دیتا
مَیں ہُوں پِیار کرتا
دِل سے ہُوں لگاتا
اَپنی زِندگی اَور سب کُچھ مَیں دیتا
دِل سے ہُوں لگاتا
اَپنی زِندگی اَور سب کُچھ مَیں دیتا
مَیں ہُوں پِیار کرتا
دِل سے ہُوں لگاتا
اَپنی زِندگی اَور سب کُچھ مَیں دیتا
2
آفت زدہ ہے زِندگی
یہ نُمائِش دُنیاوی
تلاش مَیں تھا خُوشی کی
صِلہ مِیں مُجھ کو نہ مِلا ہے کُچھ بھی
یہ نُمائِش دُنیاوی
تلاش مَیں تھا خُوشی کی
صِلہ مِیں مُجھ کو نہ مِلا ہے کُچھ بھی
3
خدا مُجھ سے دُور تھا
ہے مَقَام بُلند جِس کا
وہ پھر بھی مُجسّم ہُوا
مُجھے ڈُھونڈا
مَصلُوب ہُوا
جاں دی خُون بہایا
ہے مَقَام بُلند جِس کا
وہ پھر بھی مُجسّم ہُوا
مُجھے ڈُھونڈا
مَصلُوب ہُوا
جاں دی خُون بہایا